Blogging Fusion » Blog Details for A Website For Aashiqan e Rasool

Use Blogger/Blogspot? Than submit your blog for free to our blog directory.




Follow Us


Available Upgrade Detected
If you are the owner of A Website For Aashiqan e Rasool, or someone who enjoys this blog why not upgrade it to a Featured Listing or Permanent Listing?.

UPGRADE

SHARE THIS PAGE ON:
Blog Details
Blog Directory ID: 33669 Get VIP Status?
: Report Blog Listing This is a free listing which requires a link back!
Google Pagerank: 1
Blog Description:

Midhaterasool is a Islamic website designed for Aashiqan e Rasool who wants to download their favorite Naat Khuwan Kalams and their favorite muballig bayanats
Blog Added: October 07, 2017 05:54:02 PM
Audience Rating: General Audience
Blog Platform: WordPress
Blog Country: Pakistan   Pakistan
Blog Stats
Total Visits: 444
Blog Rating: 4.65
Add the ReviewMe Button Or SEO Rank to your Blog!
Review A Website For Aashiqan e Rasool at Blogging Fusion Blog Directory
My Blogging Fusion Score

Featured Resources

Example Ad for A Website For Aashiqan e Rasool

This what your A Website For Aashiqan e Rasool Blog Ad will look like to visitors! Of course you will want to use keywords and ad targeting to get the most out of your ad campaign! So purchase an ad space today before there all gone!

https://www.bloggingfusion.com
notice: Total Ad Spaces Available: (2) ad spaces remaining of (2)

Advertise in this blog listing?

Blog specific ad placement
Customize the title link
Place a detailed description
It appears here within the content
Approved within 24 hours!
100% Satisfaction
If not completely satisfied, you'll receive 3 months absolutely free;
No questions asked!
Buy Now!
Alexa Web Ranking: 10,398,947

Alexa Ranking - A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe to A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe Now!
انتقال کے بعد بھی مدینہ منورہ میں حاضری

حضرت مولانا ضیاء الدین احمد صاحب  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   جو مدینے میں ہی رہائش رکھتے تھے ، فرماتے ہیں کہ دن کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا ، میں سو رہا تھا ، خواب میں دیکھا کہ امام اہلسنت سید ی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضور پر نور سرکار دوعالم صلی […] The post انتقال کے بعد...

حضرت مولانا ضیاء الدین احمد صاحب  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ   جو مدینے میں ہی رہائش رکھتے تھے ، فرماتے ہیں
کہ دن کے تقریباً دس بجے کا وقت تھا ، میں سو رہا تھا ، خواب میں دیکھا کہ امام
اہلسنت سید ی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضور پر نور سرکار دوعالم صلی اللہ
تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مواجہہِ اقدس پر  حاضرہیں اور صلوٰۃ وسلام عرض کررہے ہیں ۔ ابھی
اتنا ہی خواب دیکھا تھا کہ  میری آنکھ کھل
گئی ۔

اب بار بار خیال کر رہا تھا کہ خواب ہی تو تھا مگر
دل کی یہ حالت تھی  کہ مسلسل حرم شریف چلنے
پرآمادہ کررہاتھا ، آخر کار بسترسے اٹھا،وضو کیا اور’’باب السلام‘‘سے حرم شریف  میں داخل ہوگیا ۔

ابھی کچھ حصہ مسجد
کا طے کیا تھا کہ اپنی آنکھوں سے میں نے دیکھا کہ واقعی اعلیٰ حضرت رحمۃ
اللہ تعالیٰ علیہ اسی سفید لباس میں مزار پُر انوار پر حاضر ہیں اور جیسا کہ خواب
میں دیکھا تھا کہ صلوٰۃ و سلام پڑھ رہے تھے، آنکھوں نے یہ دیکھا کہ لبہائے مبارکہ
میں جنبش ہو رہی  تھی مگر آواز سننے میں
نہ آ رہی تھی  ۔

یہ سب  دیکھ
کرمیں  بیتاب ہو کر قدم بوسی کے لیے آگے
بڑھا تو  اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نظروں سے غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد میں نے مواجہہ
شریف  پر حاضری دی اور صلوٰۃ وسلام عرض
کرکے واپس ہولیا۔

 

 واپسی پر جب
اسی جگہ پہنچا  کہ جہاں سے انہیں پہلے
دیکھا تھا تو ایک مرتبہ پھر آپ کو وہیں موجود پایا۔(پھر پلٹا مگر  وہی معاملہ ہوا
، یہاں سے نظر آتے وہاں جا کر نظر نہ آتے )مختصر یہ کہ تین (مرتبہ پلٹا
تینوں) مرتبہ ایسا ہی ہوا۔  
(حیاتِ اعلیٰ حضرت از مولانا ظفر
الدین بہار ی مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور ص 973 )

The post انتقال کے بعد بھی مدینہ منورہ میں حاضری appeared first on Midhaterasool.



دس محرم الحرام کی مبارک رات کی برکت سے معذور بچی ٹھیک ہوگئی

بصرہ میں ایک مال دار آدمی رہتا تھا۔ ہر سال شب ِ عاشوراء کو اپنے گھرمیں لوگوں کوجمع کرتا جو قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے اوراللہ تعالیٰ  کا ذکرکرتے۔ اسی طرح رات بھر تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کا سلسلہ جاری رہتا۔پھر وہ شخص سب کو کھانا پیش کرتا۔مساکین کی خبر گیری کرتا۔ بیواؤں اور...

بصرہ میں ایک مال دار آدمی رہتا تھا۔ ہر سال شب ِ عاشوراء کو اپنے گھرمیں لوگوں کوجمع کرتا جو قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے اوراللہ تعالیٰ  کا ذکرکرتے۔ اسی طرح رات بھر تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کا سلسلہ جاری رہتا۔پھر وہ شخص سب کو کھانا پیش کرتا۔مساکین کی خبر گیری کرتا۔ بیواؤں اور یتیموں سے بھی اچھا سلوک کرتا۔

اس کا ایک پڑوسی تھا جس کی بیٹی معذور تھی۔اس لڑکی نے اپنے باپ سے پوچھا: ” ہمارا پڑوسی ہرسال اس رات لوگوں کو کیوں جمع کرتا ہے؟ اور پھر سب مل کرتلاوتِ قرآن اور ذکر کرتے ہیں۔”باپ نے بتایا:” یہ عاشوراء کی رات ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اس کی بہت حرمت ہے اور اس کے بہت زیادہ فضائل ہیں ۔”

جب سب گھر والے سو گئے تو بچی سحری تک بیدار رہ کرقرآنِ عظیم کی تلاوت اور ذکر ِ الٰہی سنتی رہی۔ جب لوگوں نے قرآنِ حکیم ختم کر لیا اور دعا مانگنے لگے تو اس لڑکی نے بھی اپنا سر آسمان کی جانب اُٹھا دیا اورعرض کی: ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تجھے اس رات کی حرمت کا واسطہ اوران لوگوں کا واسطہ جنہوں نے ساری رات تیرا ذکر کرتے ہوئے جاگ کر گزاری ہے! مجھے عافیت عطا فرما دے، میری تکلیف دور کر دے اور میرے دل کی شکستگی دور فرما دے۔”

ابھی اس کی دعا پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی تکلیف اور بیماری ختم ہو گئی اور وہ اپنے پاؤں پر اٹھ کھڑی ہوئی۔جب باپ نے اس کو پاؤں پر کھڑے ہوئے دیکھا تو پوچھا :” اے میری بیٹی !کس نے تجھ سے اس مصیبت کو دور کیاہے؟”

تو اس نے جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمت کا بادل برسایا اور انعامات و نوازشات میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کی ۔ اے میرے والد ِ محترم! میں نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس مبارک رات کاوسیلہ پیش کیا تو اس نے میری تکلیف دور فرما دی اور میرے جسم کو صحیح فرما دیا۔

(حکایتیں اور نصیحتیں  ؛ ص 457؛ مکتبۃ المدینہ )

The post دس محرم الحرام کی مبارک رات کی برکت سے معذور بچی ٹھیک ہوگئی appeared first on Midhaterasool.



گناہ گار شخص جس کا جنازہ کوئی نہیں پڑھا رہا تھا پھر ایسا کیا ہوا کہ وقت کا بڑا ولی خود جنازہ پڑھانے آگیا

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کی ایک مریدنی تھی اسکا ایک بیٹا تھا جو بہت سرکش تھا دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں تھا جو اُس نے نہ کیا ہو ایک دن سخت بیمار ہوگیا قریب الموت ہوا تو ماں کی گود میں سر رکھ کےکہنے لگا، ماں جب مجھے موت آئے تو اے […] The post گناہ گار شخص جس کا جنازہ کوئی نہیں...

حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ کی ایک مریدنی تھی اسکا ایک بیٹا تھا جو بہت سرکش تھا دنیا میں ایسا کوئی گناہ نہیں تھا جو اُس نے نہ کیا ہو

ایک دن سخت بیمار ہوگیا قریب الموت ہوا تو ماں کی گود میں سر رکھ کےکہنے لگا، ماں جب مجھے موت آئے تو اے ماں اپنے پیرو مرشد سے میرا جنازہ پڑھانے کی سفارش کرنا اگر وہ آئیں گے تو لوگ میرے جنازے کو کندھا دینگے ورنہ میں نے نیکی کا کوئی کام کیا ہی نہیں

جب طبیعت بگڑنے لگی تو ماں حضرت حسن کے پاس گئی کہ حضرت میرا بیٹا موت و حیات کی کشمکش میں ہے اس نے آپ سے جنازہ پڑھانے کی سفارش کی ہے، حضرت نے کہا کہ محترمہ! آپ کے بیٹے کو میں نے کبھی سجدہ کرتے دیکھا نہیں میں کیسے جنازہ پڑھاؤں؟

ماں بوجھل قدموں کے ساتھ نا کام واپس لوٹی اور بیٹے سے کہا بیٹا اگر زندگی میں میری ایک بات مانی ہوتی تو آج میرے مرشد جنازہ پڑھانے سے انکار نہ کرتے۔۔۔

بیٹا حسرت بھری آنکھوں سے ماں کی بے چینی کو دیکھتا رہا رونے لگا بولا ماں!

جب مجھے موت آئے تو میرے پاؤں کو رسی سے باندھ کر سارے شہر میں گھسیٹنا اور یہ آواز لگانا کہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے جو اس کا حکم نہیں مانتا اس کا یہی حشر ہوگا اور ماں!

پھر مجھے دفنانا نہیں مجھے اس شہر کی سب سے گندی جگہ پھینکنا کہ تاکہ لوگ مجھ سے عبرت پکڑیں۔ اس حالت میں اس لڑکے کو موت آئی اور روح پرواز کرگئی۔۔۔۔

وفات کے چند لمحوں کے بعد دروازے پر دستک ہوئی ماں نے دروازہ کھولا تو دیکھا حضرت حسن کھڑے تھے، کہنے لگے میں جنازہ پڑھانے آیا ہوں۔۔۔۔۔

ماں بولی!

حضرت میرا بیٹا فوت ہوگیا  یہ صرف میں اور اللہ جانتا ہے آپ کو کیسے پتہ؟

حضرت فرمانے لگے!

جب آپ واپس آئیں تو میں قیلولہ کر رہا تھا میری آنکھ لگی اور نیند میں آواز آئی کہ آپ نے اللہ کے ایک دوست کا جنازہ پڑھانے سے انکار کیسے کیا؟

اللہ اکبر!

یہاں ندامت کے دو آنسوں گرے وہاں مغفرت کا فیصلہ ہوگیا۔

ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو

The post گناہ گار شخص جس کا جنازہ کوئی نہیں پڑھا رہا تھا پھر ایسا کیا ہوا کہ وقت کا بڑا ولی خود جنازہ پڑھانے آگیا appeared first on Midhaterasool.



پوری دنیا کی بادشاہت اور بوڑھا آدمی

ایک مرتبہ پوری دُنیا کے بادشاہ حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین دورانِ سفر ایک شہرمیں داخل ہوئے توتمام شہر والے زیارت کے لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھنے لگے۔ عو ر تیں، بچے،بوڑھے،جوان الغرض ہرشخص اپنے بادشاہ کے دیدارکے لئے کھِچا چلا آ رہا...

ایک مرتبہ پوری دُنیا کے بادشاہ حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین دورانِ سفر ایک شہرمیں داخل ہوئے توتمام شہر والے زیارت کے لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف بڑھنے لگے۔ عو ر تیں، بچے،بوڑھے،جوان الغرض ہرشخص اپنے بادشاہ کے دیدارکے لئے کھِچا چلا آ رہا تھا۔لیکن ایک بوڑھاشخص اپنے کام میں مصروف تھا۔جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے قریب سے گزرے اوراس نے آپ کی طرف توجہ نہ دی توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے متعجب ہوکرکہا: ”کیابات ہے سب لوگ مجھے دیکھنے کے لئے جمع ہوئے لیکن تم اپنے کام میں مگن رہے، تم نے ایسا کیوں کیا؟” اس نے جواب دیا: ”اے ہمارے بادشاہ! جوحکومت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوحاصل ہے، وہ مجھے تعجب میں نہیں ڈالتی۔ کیونکہ میں نے دیکھاکہ ایک بادشاہ اور مسکین کاایک ساتھ انتقال ہواہم نے انہیں دفنادیا۔چنددن بعد ان کے کفن پھٹ گئے، پھر کچھ دِن بعد ان کاگوشت گل سڑگیا، مزید کچھ دن گزرنے پران کی ہڈیا ں جوڑوں سے علیحدہ ہو کر آپس میں مل گئیں۔اب بادشاہ اور مسکین میں پہچان نہیں ہوسکتی تھی کہ کون سی ہڈیاں بادشاہ کی ہیں اور کون سی مسکین کی۔لہٰذا اے ذُو الْقَرْنَیْن علیہ رحمۃربّ ِالکونین!مجھے آپ کی حکومت اور شان و شوکت تعجب میں نہیں ڈالتی ،اسی لئے میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف توجہ نہیں کی۔حضرتِ سیِّدُنا ذُوالْقَرْنَیْن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس بزرگ کی یہ باتیں سن کربہت حیران ہوئے اورجاتے ہوئے یہ حکم صادر فرمایاکہ آئندہ یہ حکیم و دانا شخص اس شہر پر حاکم ہو گا۔

The post پوری دنیا کی بادشاہت اور بوڑھا آدمی appeared first on Midhaterasool.



حاملہ گائے کی قربانی

سوال:کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متین کَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اِس مسئلے میں  کہ زید نے قربانی کی نیّت سے گائے خریدی جب گھر لایا تو لوگوں  نے کہا کہ اسکے پیٹ میں  بچّہ ہے اسکی قربانی نہیں  ہوگی، تو ارشاد فرمایا جائے کیا واقعی ایسا ہے کہ قربانی نہیں  ہوگی،...

سوال:کیا فرماتے ہیں  علماء ِدین و مفتیانِ شرعِ متین کَثَّرَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اِس مسئلے میں  کہ زید نے قربانی کی نیّت سے گائے خریدی جب گھر لایا تو لوگوں  نے کہا کہ اسکے پیٹ میں  بچّہ ہے اسکی قربانی نہیں  ہوگی، تو ارشاد فرمایا جائے کیا واقعی ایسا ہے کہ قربانی نہیں  ہوگی، زید کو کیا کرنا چاہیے؟

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَالْحَقِّ وَالصَّوَابِ

صورتِ مسؤلہ (یعنی پوچھی گئی صورت)میں زید کی قربانی درست ہے، کیونکہ گائے یا بکری کے پیٹ میں بچہ ہونا قربانی کیلئے مُضِر (یعنی نقصان دہ)نہیں  ،بلکہ اگر زید فقیر ہے اور اس نے قربانی کی نیّت سے گائے خریدی تھی تب تو اسکے لئے اسی گائے کی قربانی کرنا واجب ہوگیاجیسا کہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے :’’وَلَوْ ضَلَّتْ اَوْ سُرِقَتْ فَشَرٰی اُخْرٰی فَظَھَرَتْ فَعَلَی الْغَنِیِّ اِحْدَاھُمَا وَعَلَی الْفَقِیْرِ کِلَاھُمَایعنی اگر (قربانی کا جانور)کھو گیا یا چوری ہوگیا اور اس نے دوسرا جانور خرید لیا پھر بعد میں  وہ جانور مل گیا تو غنی کو اختیار ہے کہ دونوں  میں  کسی ایک جانورکو ذبح کرے اور فقیر پر دونوں  جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے ۔(کیونکہ فقیر پر وہ جانور خریدنے کی وجہ سے اسی جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگیا تھا )

( رد المحتار علی الدر المختارج9ص539دار المعرفہ بیروت)

اسی طرح صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں  ’’فقیر نے قربانی کیلئے جانور خریدا،اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے ‘‘

(بہار شریعت جلد3 ص331 مطبوعہ مکتبۃُ المدینہ)

ہاں ! زیداگر غنی ہے اور اگرچاہے تو اُس کیلئے افضل یہ ہے کہ وہ بچے والی گائے کی قربانی نہ کرے بلکہ اسکے بجائے کسی اور جانور کی قربانی کرلے۔چنانچہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللہ القوی کی وِساطت سے بچے والی گائے یا بکری سے متعلق دو مَدَنی پھول پیش کئے جاتے ہیں  :

نمبر ایک: قربانی کیلئے جانور خریدا تھا قربانی کرنے سے پہلے اسکے بچہ پیدا ہوا تو بچے کو بھی ذبح کر ڈالے اور اگر بچے کو بیچ ڈالا تو اسکا ثمن (یعنی حاصل ہونے والی قیمت) صدقہ کردے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیع کیا (یعنی نہ بیچا)اورایامِ نحر(یعنی قربانی کے دن) گزر گئے تو اس کو زندہ صدقہ کردے،اور اگر کچھ نہ کیا اور بچہ اسکے یہاں  رہا اور قربانی کا زمانہ آگیا یہ چاہتا ہے کہ اِس سال کی قربانی میں  اُسی کو ذبح کردے یہ نہیں  کر سکتا اور اگر قربانی اُسی کی کردی تو دوسری قربانی پھر کرے کہ وہ قربانی نہیں  ہوئی اور وہ بچہ ذبح کیا ہوا صدقہ کردے بلکہ ذبح سے جو کچھ اُسکی قیمت میں  کمی ہوئی اُسے بھی صدقہ کرے ۔

نمبر دو: قربانی کی اور اُسکے پیٹ میں  زندہ بچہ ہے تو اسے بھی ذَبح کردیں  اور اسے صَرف (یعنی استعمال)میں  لاسکتا ہے اور مرا ہوا بچہ ہو تو اسے پھینک دے مُردار ہے ۔

(بہار شریعت جلد3 ص331 مطبوعہ مکتبۃُ المدینہ)

وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ سَلَّمَ

The post حاملہ گائے کی قربانی appeared first on Midhaterasool.



اسلام نے بہن کو کیا دیا؟

اسلام سے پہلے آسمانِ دنیا نے یہ دردناک مَناظِر بھی دیکھےکہ عورت کو بُری طرح ذلیل و رُسوا کیا جاتا ،اسے مارا پیٹا جاتااور اس کے حُقُوق پر غاصِبانہ قبضہ جما لینے کوجرأت مندی و بہادری سمجھا جاتا۔ماں اوربیٹی کی طرح “بہن‘‘ کے ساتھ بھی کوئی اچھا سُلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ ماں باپ...

اسلام سے پہلے آسمانِ دنیا نے یہ دردناک مَناظِر بھی دیکھےکہ عورت کو بُری طرح ذلیل و رُسوا کیا جاتا ،اسے مارا پیٹا جاتااور اس کے حُقُوق پر غاصِبانہ قبضہ جما لینے کوجرأت مندی و بہادری سمجھا جاتا۔ماں اوربیٹی کی طرح “بہن‘‘ کے ساتھ بھی کوئی اچھا سُلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ ماں باپ کی وِراثت سے تو اسے یوں بے دَخَل کر دیتے جیسے دودھ سے مکّھی کو نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔اِسلام نے ماں اور بیٹی کی طرح ’’بہن‘‘کو بھی وِراثت کا حق دیاکہ “اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے وُرَثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وِراثت سے مال کا آدھا حصّہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ(بہنیں) ہوں تو دو تہائی حصّہ ملے گا”۔

(صراط الجنان ،ج2، ص370)

مگرافسوس! آج اسلامی تعلیمات سے دُور بعض لوگ اپنی بہنوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے اور انہیں وِراثت میں ملنے والی جائیداد پر قبضہ جما لیتے ہیں،بلکہ بعض تو یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر حصّہ لینا ہے تو ہمارا تمہارا تعلّق خَتْم! چنانچہ’’بہن بے چاری” بھائیوں سے اپنے حق کا مُطالَبہ اس خوف سے نہیں کرتی کہ بھائیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔
عورتوں کے سب سے بڑے خیر خواہ،مدینے کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھائیوں کو بہنوں کی عزّتوں کا رَکھوالا یوں بنایا:”جس كى تىن بىٹىاں ىا تىن بہنىں ہوں ىا دو بىٹىاں ىا دو بہنىں اور اس نے ان كے ساتھ حُسنِ سُلُوك كىااور ان كے بارے مىں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا رہا تو اسےجنّت ملے گى۔

(ترمذى،ج3، ص367، حدیث:1923)

بلکہ ایک مرتبہ تو چاروں انگلیاں جوڑ کر جنّت میں رفاقت کی خوشخبری سنائی:ایسا شخص جنت میں میرے ساتھ یوں ہو گا۔

(مسند احمد،ج4، ص313، حدیث: 12594)

اسی طرح نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بہنوں پر خَرْچ کو دوزخ سے رُکاوٹ کا یوں سبب بتایا:جس نے اپنی دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو رشتہ دا ر بچیوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کیایہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنے فضْل سے غنی کر دیاتو وہ اُس کے لئے آگ سے پردہ ہوجائیں گی۔

(مسند احمد ،ج10،ص179، حدیث:26578ملتقطا)

 

:بہنوں سے حُسنِ سُلُوک کی مثالیں

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی رَضاعِی (دودھ شریک )بہن حضرت شیماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہا کےساتھ یوں حُسنِ سُلُوک فرمایا: (1)اُن کےلئےقیام فرمایا(یعنی کھڑے ہوئے)(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333) (2)اپنی مُبارَک چادر بچھا کر اُس پر بٹھایا اور (3)یہ ارشاد فرمایا: مانگو،تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5، ص199،ملتقطاً)

اس مثالی کرم نوازی کے دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، (4)یہ بھی ارشادفرمایا :اگر چاہو تو عزّت و تکریم کے ساتھ ہمارے پاس رہو،(5)واپس جانے لگیں تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تین غلام اور ایک لونڈی نیز ایک یا دو اونٹ بھی عطا فرمائے،(6)جب جِعْرَانَہ میں دوبارہ انہی رَضاعی بہن سے ملاقات ہوئی تو بھیڑ بکریاں بھی عطا فرمائیں۔

(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333 ملتقطا)

ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اپنی رَضاعی بہن سے حُسْنِ سُلُوک ہر بھائی کویہ اِحساس دِلانے کے لیے کافی ہےکہ بہنیں کس قَدْر پیاراورحُسنِ سُلُوک کی مستحق ہیں۔ حضرت سیّدُنا جابِر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما نےمحض اپنی نو یا سات بہنوں کی دیکھ بھال،اُن کی کنگھی چوٹی اور اچھی تربیت کی خاطر بیوہ عورت سے نکاح کیا۔

(مسلم، ص593،594،حدیث:3641،3638)

اَلْغَرَض عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیّت سے جو عزّت وعظمت،مقام ومرتبہ اور اِحتِرام اسلام نے دیا ، دنیا کے کسی قانون ،مَذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔اِسلام کے اس قدْر اِحسانات کے باوُجود کسی”اسلامی بہن“کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کراپنے لباس،چال ڈھال،بول چال، کھانے پینے،مِلنے ملانےوغیرہ میں غیروں کے دئیے ہوئے انداز اپنائے!لہٰذاہر اسلامی بہن کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی اللہو رسولعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت میں گزارے۔ اس کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوجانا بہت مفید ہے ۔

The post اسلام نے بہن کو کیا دیا؟ appeared first on Midhaterasool.



Subscribe to RSS Feed
Link to Category: Islam Blogs


Or if you prefer use one of our linkware images? Click here