Blogging Fusion » Blog Details for A Website For Aashiqan e Rasool

We maximize your reach, by maximizing your feed and new post by broadcasting!




Follow Us


Available Upgrade Detected
If you are the owner of A Website For Aashiqan e Rasool, or someone who enjoys this blog why not upgrade it to a Featured Listing or Permanent Listing?.

UPGRADE

SHARE THIS PAGE ON:
Blog Details
Blog Directory ID: 33669 Get VIP Status?
: Report Blog Listing This is a free listing which requires a link back!
Google Pagerank: 1
Blog Description:

Midhaterasool is a Islamic website designed for Aashiqan e Rasool who wants to download their favorite Naat Khuwan Kalams and their favorite muballig bayanats
Blog Added: October 07, 2017 11:54:02 PM
Audience Rating: General Audience
Blog Platform: WordPress
Blog Country: Pakistan   Pakistan
Blog Stats
Total Visits: 1,374
Blog Rating: 4.58
Add the ReviewMe Button Or SEO Rank to your Blog!
Review A Website For Aashiqan e Rasool at Blogging Fusion Blog Directory
My Blogging Fusion Score

Featured Resources

Example Ad for A Website For Aashiqan e Rasool

This what your A Website For Aashiqan e Rasool Blog Ad will look like to visitors! Of course you will want to use keywords and ad targeting to get the most out of your ad campaign! So purchase an ad space today before there all gone!

https://www.bloggingfusion.com
notice: Total Ad Spaces Available: (2) ad spaces remaining of (2)

Advertise in this blog listing?

Blog specific ad placement
Customize the title link
Place a detailed description
It appears here within the content
Approved within 24 hours!
100% Satisfaction
If not completely satisfied, you'll receive 3 months absolutely free;
No questions asked!
Buy Now!
Alexa Web Ranking: 3,691,958

Alexa Ranking - A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe to A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe Now!
جب ایک کافر جن یہودی بچے کو اٹھا کر لے گیا۔۔۔۔

ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺصحابۂ کرام علیہم الرضوان کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی عورت آپ ﷺ کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئی اور یہ اشعار پڑھنے لگی: جن کا ترجمہ کچھ یوں تھا :ـ  (1) اے میرے چاندسے بیٹے میرا باپ تم پرفدا ، کاش! مجھے تیرے قاتل کاعلم ہوتا۔ […] The post جب ایک کافر...

ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺصحابۂ کرام علیہم الرضوان کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی عورت آپ ﷺ کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئی اور یہ اشعار پڑھنے لگی: جن کا ترجمہ کچھ یوں تھا :ـ

 (1) اے میرے چاندسے بیٹے میرا باپ تم پرفدا ، کاش! مجھے تیرے قاتل کاعلم ہوتا۔

 (2) تیرامجھ سے یوں اوجھل ہوناوحشت ناک ہے ، کیا تجھے یہودی بھیڑیا کھاگیاہے۔

 (3) اگرتوفوت ہوچکاہے توراتوں رات تیرایہ مرجاناکس قدرجلدہواہے۔

 (4) اگر توزندہ ہے تو تجھ پرلازم ہے کہ جہاں سے چلاتھاجیتے جی وہیں پلٹ آ۔

آپ ﷺنے اس سے پوچھا :” اے عورت ! تجھے کیا صدمہ پہنچا ہے ؟ ”عرض کرنے لگی :” یامحمد (ﷺ)۔۔۔! میرا بچہ میرے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک غائب ہوگیا اور اس کے بغیر میرا گھر ویران ہوگیا ہے۔”

آپ ﷺنے فرمایا :” اگر اللہ عزوجل میرے ذریعہ تمہارے بچے کو لوٹادے تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گی۔” عورت بولی:” جی ہاں! مجھے انبیاء کرام حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم ، حضرتِ سَیِّدُنا اسحق اور حضرتِ سَیِّدُنا یعقوب علیہم السلام کے حق ہونے کی قسم ! میں ضرور ایمان لے آؤں گی۔”

آپ ﷺ اٹھے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں پھر دیر تک دعا مانگتے رہے ۔جب دعا مکمل ہوئی تو بچہ آپ ﷺ کے سامنے موجود تھا ۔آپ ﷺنے بچے سے پوچھا کہ ”تو کہاں تھا؟” بولا :” میں اپنی ماں کے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک (عفریت نامی ) ایک کافر جن میرے سامنے آیا اور مجھے اٹھا کر سمندر کی طرف لے گیا ۔

جب آپ ﷺ نے دعا مانگی تو اللہ عزوجل نے ایک مؤمن جن کو اس پر مسلط کردیا جو جسامت میں اس سے بڑا اور طاقتور تھا۔ اس نے مجھے کافر جن سے چھین کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا دیا اوراب میں آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوں،اللہ عزوجل آپ ﷺ پررحمت نازل فرمائے۔” وہ عورت یہ واقعہ سنتے ہی کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔

اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔۔۔ آمین ۔

(آنسوؤں کا دریا ، ص :222 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post جب ایک کافر جن یہودی بچے کو اٹھا کر لے گیا۔۔۔۔ appeared first on Midhaterasool.



حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام نے جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکوع سے سر اٹھانے سے روکا

ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے ۔پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا ۔ نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺنے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ ”میرا […] The post حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل...

ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے ۔پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا ۔

نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺنے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ ”میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟” حضرتِ سَیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیا :” لبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہﷺ ۔۔۔!” آپ ﷺنے فرمایا: ”اے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ ۔” چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے قریب آکر بیٹھ گئے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:” ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟” عرض کیا:” کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ ۔۔۔!”ارشاد فرمایا:” پھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟” عرض کی :” ان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟”

عرض کیا کہ ”جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ ﷺ کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا ۔پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی ۔

میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا۔ میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا۔ میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا ۔پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا نہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟”

آپ ﷺ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے مسکرا کر ارشادفرمایا:” مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو :” تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟” عرض کی :” اللہ اور اس کے رسول عزوجل و ﷺ بہتر جانتے ہیں ۔”ارشاد فرمایا:” پیالہ تمہارے پاس جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھا اوررومال تمہیں حضرتِ سَیِّدُنا میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ،حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھا یہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا ۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہواور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین )

(آنسوؤں کا دریا ، ص:220 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post حضرتِ سَیِّدُنا اسرافیل علیہ السلام نے جب آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکوع سے سر اٹھانے سے روکا appeared first on Midhaterasool.



غریب جوان بیٹی کی شادی اور جہیز

وہ ساتھ والے کمرے میں دیوار سے کان لگائے لرزتے ہوئے سن رہی تھی۔۔۔ اس کے بھائی جو اپنے ایک دوست کے ساتھ ابھی ابھی گھر آئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ انہی کی آواز تھی۔۔۔ ”بابا ۔۔ ہم زیادہ سامان نہیں دے سکیں گے۔۔۔ورنہ عمر بھر قرض اتارتے رہیں گے۔۔۔“ آواز میں پریشانی اور الجھن کے ساتھ […] The...

وہ ساتھ والے کمرے میں دیوار سے کان لگائے لرزتے ہوئے سن رہی تھی۔۔۔ اس کے بھائی جو اپنے ایک دوست کے ساتھ ابھی ابھی گھر آئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔یہ انہی کی آواز تھی۔۔۔

”بابا ۔۔ ہم زیادہ سامان نہیں دے سکیں گے۔۔۔ورنہ عمر بھر قرض اتارتے رہیں گے۔۔۔“

آواز میں پریشانی اور الجھن کے ساتھ ساتھ اکتاہٹ بھی تھی۔۔۔
بابا کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔ ” کاش پیسہ ہوتا ہم اپنی بیٹی کو سب کچھ دے کے رخصت کرتے۔۔۔ “

اس نے تصور میں دیکھا ۔۔ ماں بیچاری تو سب سن کر بس رو رہی ہو گی۔۔۔۔۔رو رو کر بیچاری کے آنسو بھی خشک ہوچکے تھے

اسے خود پر بہت غصہ آ رہا تھا۔۔۔ جی چاہ رہا تھا۔۔ جا کے زور زور سے کہہ دے۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں لینا۔۔۔ بس آپ لوگوں کی خوشی اور سکون ہی میرے لیے سب سے بڑا جہیز ہے۔۔۔۔

مم مگر۔۔۔۔ اسے خیال آیا۔۔۔۔ میں مجبور ہوں۔۔۔ ظالم سماج نے بڑا بھاری بھرکم جہیز لازمی بنا رکھا ہے۔۔۔کائنات کی حقیقی شہزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا جہیزبھی تو تھا۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔

ضرورت مجھے نہیں۔۔۔ میرے سسرال کو ہے۔۔۔۔۔ اگربات میری ہوتی۔۔۔۔ بات بیٹی کی ہوتی۔۔۔۔ تو ہر بیٹی جہیز۔۔۔ میں باپ کا کِھلا چہرہ۔۔۔ ماں کے محبت بھرے بوسے۔۔۔اور بھائی کے پیار کی طلب کرتی۔۔۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔۔۔ قرض مانگنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔۔۔

وہ دھڑام سے چارپائی پر جا گِری۔۔۔۔۔ یا اللہ ۔۔۔۔ میں کہاں جاؤں۔۔۔
کاش امیر لوگ۔۔۔یہ رسم کو نہ بڑھاتے۔۔۔ میں کتنی مجبور ہوں۔۔ کاش۔۔۔۔سسرال سے پیغام آجائے۔۔

ہمیں بس بیٹی سے مطلب ہے۔۔۔ سامان تو ہمارے پاس سب ہے۔۔۔ ایک بیٹی کی کمی ہے۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ہاں آواز تو آئی تھی ۔۔۔۔۔۔لیکن کیا وہ سچی تھی

اب بھی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔ شادی پر غم کی آواز۔۔۔۔ ’’جا بیٹا۔۔۔۔۔ قرض لے کے آ۔۔۔۔۔ بیٹی کو تو گھر سے اٹھانا ہے۔۔۔‘‘ بابا کی بڑھاپے سے کپکپاتی آواز تھی۔۔۔۔

کک کیا۔۔۔۔ بیٹی کافی نہیں۔۔۔؟؟ جہیز کیوں۔۔۔۔؟؟کاش کوئی سنے۔۔۔ کوئی دیکھے۔۔۔۔ میرے ماں باپ کا حال۔۔۔۔ تو کبھی جہیز نہ لے۔۔۔ وہ زور زور سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔

لاکھوں بیٹیاں۔۔۔ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہو گئیں۔۔۔ لاکھوں۔۔ اپنے ماں باپ کو عمر بھر کے لیے مقروض کر کے اٹھیں۔۔۔۔کہاں گئے وہ ۔۔۔۔؟؟؟ جو کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔۔۔۔ ارے کوئی دیکھو۔۔۔ میرا گھر برباد ہو رہا۔۔۔ وہ چِلا رہی تھی۔۔۔ اور پھر وہ سب کچھ بھول بھال کر ۔۔۔۔۔۔اپنے پیارے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی ۔۔۔۔۔اور

میں سن رہا تھا۔۔۔۔۔دیکھ رہا تھا۔۔۔ ایک مہکتے ہوئے باغ کے مالی اپنے ہی ہاتھوں سے باغ میں خزاں لانے جا رہے تھے۔۔۔

ہنستے بستے گھر میں۔۔۔ اداسی اور ویرانی کی تدبیریں خود اہل خانہ کر رہے تھے۔۔۔ اپنی مسکراہٹوں اور سکون کو گھر سے خود نکالنے کی صلاح ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔بالآخر معاملے میری برداشت سے باہر ہوگیا۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔
میں فوراً لڑکے والوں کے گھر پہنچا۔۔۔۔۔ ان کے سامنے اجڑتے ہوئے گھر کا منظر پیش کیا۔۔۔لڑکے کا باپ میری بات سن کر ۔۔۔۔۔عجیب سے انداز میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔جیسے ماضی میں ایسا ہی کوئی دلخراش واقعہ اس کے ساتھ پیش آچکا ہواور بولا۔۔۔۔

آؤ میرے ساتھ ۔۔۔ مجھے ساتھ لے کر۔۔۔۔ وہ لڑکی والوں کے گھر کی جانب چل پڑا۔۔۔۔۔۔لڑکی گھر والے اس اچانک آمد پر حیران و پریشان ہوگئے۔۔۔۔۔یااللہ خیر ۔۔۔۔

اور پھر ایک آواز گونجی ۔۔۔بھائی صاحب۔۔۔۔ ایک بات کا خیال رکھنا۔۔۔ ہمیں بیٹی دے رہے ہو۔۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں بچتا۔۔۔۔
سجدے کی حالت میں اس کے کان میں بھی یہ آوازآئے ۔۔۔۔۔ سکتا طاری تھا۔۔۔۔ کرم فرمانے والے رب کریم ۔۔۔۔۔۔تو کتنا کریم ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سجدہ کتنا طویل تھا ؟کوئی نہیں جانتا

اس کا باپ بولا۔۔۔نہیں بھائی صاحب ہم نے اپنی بیٹی کو کچھ نہ کچھ دینا ہے۔
نہیں بالکل نہیں ، جو بھی ضرورت ہو ہماری بیٹی ہمارے گھر آکے خود بنا لے گی ،ہمیں یہ رسم ختم کر کے بیٹی کو اہمیت دینی چاہیے۔۔۔

وہ سر اٹھاکر دوبارہ سجدے میں گر چکی تھی ۔۔۔ ’’ یا اللہ بے بیشک تو ہی بگڑی سنوارنے والا ہے ‘‘

لڑکے کا باپ جاچکا تھا۔۔۔۔۔یقیناً جو سکون آج اسے ملا تھا بنگلہ کوٹھی ،آفس ،بڑی کار نے یہ سکون نہیں دیا

ماں اب بھی رورہی تھی ۔۔۔۔۔۔آنسو اب بھی اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔خوشی کے آنسو

سب گھر والے اس حیران کن معاملے پرخوشگوار حیرت میں مبتلا تھے۔

اے لڑکے والو۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ بھی۔۔۔۔۔بیٹیوں ۔۔۔۔ان کے بھائیوں۔۔۔۔ان کے والدین کے سکون کے لئے۔۔۔۔۔۔زبان سے نہیں ۔۔۔۔بلکہ زبان و دل دونوں سے ان کو یہ نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔’’بھائی صاحب ہمیں بیٹی چاہیے۔۔۔ جہیز نہیں ۔۔۔ بیٹی سے آگے کچھ نہیں بچتا ۔۔۔ ‘‘

آپ مانیں یا نہ مانیں ۔۔۔۔لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سی بیٹیاں یا تو بیاہی نہیں جاتیں۔۔۔ یا ماں باپ کی خوشیاں چھین کر بیاہی جاتی ہیں۔ آپ بھی اس کا حصہ بنیں گے۔۔۔۔۔؟؟

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post غریب جوان بیٹی کی شادی اور جہیز appeared first on Midhaterasool.



عشق و محبت کا زبردست واقعہ

حضرتِ سَیِّدُنا قتا دہ بن نعمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوکہ مشہور تیرانداز تھے، غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے ۔ غزوہ اُحد میں ان کی آنکھ تیر لگنے کے سبب ان کے رخسارپربہہ پڑی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آنکھ کو ہاتھ میں تھامے سرکارِ مدینہ ﷺ کی خدمت میں حاضر […] The post عشق و...

حضرتِ سَیِّدُنا قتا دہ بن نعمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوکہ مشہور تیرانداز تھے، غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے ۔ غزوہ اُحد میں ان کی آنکھ تیر لگنے کے سبب ان کے رخسارپربہہ پڑی۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آنکھ کو ہاتھ میں تھامے سرکارِ مدینہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مدنی حبیب ﷺ نے فرمایا: ”اے قتادہ ! یہ کیا ہے؟” عرض کیا :”یارسول اللہ عزوجل وﷺ ۔۔۔ ! یہ وہی ہے جو آپ ﷺ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔”

تو حضور اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:” اگر تم چاہوتو صبر کرو تو تمہارے لئے جنت ہوگی اور اگر چاہو تو میں یہ آنکھ تمہیں لوٹا دوں اور تمہارے لئے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کروں تو تم اس میں کسی کمی کونہ پاؤ گے۔”

عرض کیا: ”یارسول اللہ عزوجلﷺ ۔۔۔! خدا عزوجل کی قسم ! بے شک جنت بہت بڑی جزا اور بہت بڑی عطا ہے مگر میں اپنی بیویوں سے بھی محبت کرتاہوں اورمجھے اس بات کا ڈرہے کہ کہیں وہ مجھے یہ کہہ کرٹھکرانہ دیں کہ” یہ نابینا ہے۔”میں چاہتاہوں کہ آپ ﷺ مجھے یہ آنکھ بھی لوٹادیں او راللہ عزوجل سے میرے لئے جنت کا سوال بھی کریں۔”

تو سرورِکونین ﷺ نے فرمایا:” اے قتادہ ! میں ایسا ہی کرو ں گا ۔”پھر طبیبوں کے طبیب ﷺ نے وہ آنکھ اپنے دست مبارکہ میں پکڑی او ر اسے اس کی جگہ پر لگا دیا تو وہ آنکھ پہلے سے بہتر اور خوبصورت ہوگئی اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان کے لئے جنت کی دعا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔

(الاستیعاب قتادۃ بن النعمان، باب حرف القاف ، ج ۳ ، ص ۳۳۸)

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post عشق و محبت کا زبردست واقعہ appeared first on Midhaterasool.



اونٹ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ ایک اُونٹ بھاگتا ہوا آیا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے سرانور کے پاس آکر کھڑا ہوگیا (جیسے کان میں کوئی بات کہہ رہا ہو)۔ آپ ﷺنے فرمایا: اے اُونٹ! پرسکون ہوجا۔ اگر تو […] The post اونٹ کی آپ صلی...

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ ایک اُونٹ بھاگتا ہوا آیا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے سرانور کے پاس آکر کھڑا ہوگیا (جیسے کان میں کوئی بات کہہ رہا ہو)۔

آپ ﷺنے فرمایا: اے اُونٹ! پرسکون ہوجا۔ اگر تو سچا ہے تو تیرا سچ تجھے فائدہ دے گا اور اگر تو جھوٹا ہے تو تجھے اس جھوٹ کی سزا ملے گی۔ بے شک جو ہماری پناہ میں آجاتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اسے امان دے دیتا ہے اور ہمارے دامن میں پناہ لینے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔

ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس اونٹ کے مالکوں نے اسے ذبح کرکے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کرلیا تھا۔ سو یہ ان کے پاس سے بھاگ آیا ہے اور اس نے تمہارے نبی سے مدد مانگی ہے۔

ہم ابھی باہم اسی گفتگو میں مشغول تھے کہ اس اونٹ کے مالک بھاگتے ہوئے آئے۔ جب اونٹ نے ان کو آتے دیکھا تو وہ دوبارہ حضور نبی اکرم ﷺ کے سر مبارک کے قریب ہوگیااور آپ ﷺ کے پیچھے چھپنے لگا۔

ان مالکوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا یہ اونٹ تین دن سے ہمارے پاس سے بھاگا ہوا ہے اور آج یہ ہمیں آپ کی خدمت میں ملا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ میرے سامنے شکایت کر رہا ہے ۔ یہ کہتا ہے کہ یہ تمہاری پاس کئی سال تک پلا بڑھا۔ جب موسم گرما آتا تو تم گھاس اور چارے والے علاقوں کی طرف اس پر سوار ہوکر جاتے اور جب موسم سرما آتا تو اسی پر سوار ہوکر گرم علاقوں کی جانب کوچ کرتے ۔ اب جبکہ یہ اس خستہ حالی کی عمر کو پہنچ گیا ہے تو تم نے اسے ذبح کر کے اس کا گوشت کھالینے کا منصوبہ بنالیا ہے۔

انہوں نے عرض کیا: خدا کی قسم، یا رسول اللہ! یہ بات با لکل اسی طرح ہے جیسے آپ نے بیان فرمائی۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: ایک اچھے خدمت گزار کی اس کے مالکوں کی طرف سے کیا یہی جزا ہوتی ہے؟! وہ عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ! اب ہم نہ اسے بیچیں گے اور نہ ہی اسے ذبح کریں گے۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس اونٹ کو ان سے ایک سو درہم میں خرید لیا اور پھر فرمایا: اے اونٹ! جا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر آزاد ہے۔ اس اونٹ نے حضور ﷺ کے سر مبارک کے پاس اپنا منہ لے جاکر کوئی آواز نکالی تو آپ ﷺ نے فرمایا: آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: آمین۔ اس نے پھر دعا کی۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: آمین۔ اس نے جب چوتھی مرتبہ دعا کی تو آپ ﷺ آبدیدہ ہوگئے۔

ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اونٹ کیا کہہ رہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے پہلی دفعہ کہا: اے نبی مکرم! اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام اور قرآن کی طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔ میں نے کہا: آمین۔ پھر اس نے کہا: اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آپ کی امت سے اسی طرح خوف کو دور فرمائے جس طرح آپ نے مجھ سے خوف کو دور فرمایا ہے۔ میں نے کہا: آمین۔ پھر اس نے دعا کی: اللہ تعالیٰ دشمنوں سے آپ کی اُمت کے خون کو اسی طرح محفوظ رکھے جس طرح آپ نے میرا خون محفوظ فرمایا ہے۔ اس پر بھی میں نے آمین کہا۔ پھر اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جنگ و جدال پیدا نہ ہونے دے یہ سن کر مجھے رونا آگیا کیونکہ یہی دعائیں میں نے بھی اپنے رب سے مانگی تھیں تو اس نے پہلی تین تو قبول فرما لیں لیکن اس آخری دعا سے منع فرما دیا۔ جبرائیل نے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ میری یہ امت آپس میں تلوار زنی سے فنا ہوگی۔ جو کچھ ہونے والا ہے قلم اسے لکھ چکا ہے۔

( الترغيب والترهيب للمنذري ، 3 /144، 145، رقم: 3431 ملخصاً )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post اونٹ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو appeared first on Midhaterasool.



اُڑنے والی دیگ

پچھلے لوگو ں میں ایک بادشاہ تھا،جو بہت زیادہ سرکش تھا۔وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی میں حد سے گزراہوا تھا ۔اس دور کے مسلمانوں نے اس ظالم بادشاہ سے جہاد کیا اور اسے زندہ گرفتار کر لیا ۔اب اس کو قتل کرنے کے لئے مختلف قسم کی سزائیں تجویز کی جانے لگیں، بالآخر یہ طے […] The post اُڑنے والی...

پچھلے لوگو ں میں ایک بادشاہ تھا،جو بہت زیادہ سرکش تھا۔وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی میں حد سے گزراہوا تھا ۔اس دور کے مسلمانوں نے اس ظالم بادشاہ سے جہاد کیا اور اسے زندہ گرفتار کر لیا ۔اب اس کو قتل کرنے کے لئے مختلف قسم کی سزائیں تجویز کی جانے لگیں، بالآخر یہ طے پایا کہ اسے ایک تانبے کی بڑی دیگ میں کسی اونچی جگہ پر رکھا جائے اور اس کے نیچے آگ جلادی جائے تاکہ یہ ایک دم مرنے کی بجائے تڑپ تڑپ کر مرے اور اس ظالم کو اس کے ظلم کی پوری پوری سزاملے۔

چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسے تانبے کی دیگ میں رکھ کر نیچے آگ جلا دی۔ وہ بادشاہ بہت گھبرایا اور اپنے جھوٹے خداؤں کو باری باری پکارناشرو ع کردیا اور کہنے لگا:” اے میرے معبودو! میں ہمیشہ تمہاری عبادت کرتا رہا ،تمہیں سجدے کرتا رہا، اب مجھے اس درد ناک عذاب سے بچاؤ۔” اسی طر ح باری باری اس نے تمام جھوٹے خداؤں کو پکارا لیکن اس کا پکارنا رائیگاں گیا۔ کیونکہ وہ تو خود اپنی حفاظت کے محتاج تھے، اس کی کیا حفاظت کرتے۔ بالآ خر وہ اپنے جھوٹے خداؤں سے مایوس ہوگیا او راس نے اپنا چہرہ آسمان کی طر ف اٹھایا اور خالقِ حقیقی عزو جل کی طرف دل سے متو جہ ہوا، اور”لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ” کی صدائیں بلند کرنے لگا اور گڑگڑا کر سچے دل سے اللہ عزوجل کو پکار نے لگا۔

اللہ ربُّ العزَّت عزوجل کی بارگاہ میں اس کی یہ مخلصا نہ گریہ وزاری مقبول ہوئی ، اور اللہ تعالیٰ نے ایسی بارش بر سائی کہ ساری آگ بجھ گئی۔ پھر تیز ہوا چلی اور اسے دیگ سمیت اڑاکر لے گئی، اب وہ ہوا میں اڑنے لگااوریہ صدا بلند کرتا رہا، ” لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ، لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ،لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ ۔” پھر اللہ عزوجل نے اسے دیگ سمیت ایسی قوم میں اُتارا جو مسلمان نہ تھی بلکہ ساری قوم ہی کافر تھی ، جب لوگو ں نے دیکھا کہ دیگ میں ایک شخص ہے اوروہ کلمہ طیبہ ”لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ” پڑھ رہا ہے تو سب لوگ اس کے گر د جمع ہوگئے اور کہنے لگے:’’ تیری ہلاکت ہو! یہ تو کیا کہہ رہا ہے
۔ ‘‘

بادشاہ نے انہیں بتایا کہ :”میں فلاں ملک کا بادشاہ ہوں اور میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔”جب لوگو ں نے بادشاہ کا قصہ سنا تو سب کے سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور معبودِ حقیقی عزوجل کی عبادت کرناشروع کر دی۔

اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہواوراُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی ﷺ

(عیون الحکایات جلد1 ص:86 )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post اُڑنے والی دیگ appeared first on Midhaterasool.



Subscribe to RSS Feed
Link to Category: Islam Blogs


Or if you prefer use one of our linkware images? Click here