Blogging Fusion » Blog Details for A Website For Aashiqan e Rasool

SEO friendly and human edited to ensure highest quality




Follow Us


Available Upgrade Detected
If you are the owner of A Website For Aashiqan e Rasool, or someone who enjoys this blog why not upgrade it to a Featured Listing or Permanent Listing?.

UPGRADE

SHARE THIS PAGE ON:
Blog Details
Blog Directory ID: 33669 Get VIP Status?
: Report Blog Listing This is a free listing which requires a link back!
Google Pagerank: 1
Blog Description:

Midhaterasool is a Islamic website designed for Aashiqan e Rasool who wants to download their favorite Naat Khuwan Kalams and their favorite muballig bayanats
Blog Added: October 07, 2017 05:54:02 PM
Audience Rating: General Audience
Blog Platform: WordPress
Blog Country: Pakistan   Pakistan
Blog Stats
Total Visits: 856
Blog Rating: 4.55
Add the ReviewMe Button Or SEO Rank to your Blog!
Review A Website For Aashiqan e Rasool at Blogging Fusion Blog Directory
My Blogging Fusion Score

Featured Resources

Example Ad for A Website For Aashiqan e Rasool

This what your A Website For Aashiqan e Rasool Blog Ad will look like to visitors! Of course you will want to use keywords and ad targeting to get the most out of your ad campaign! So purchase an ad space today before there all gone!

https://www.bloggingfusion.com
notice: Total Ad Spaces Available: (2) ad spaces remaining of (2)

Advertise in this blog listing?

Blog specific ad placement
Customize the title link
Place a detailed description
It appears here within the content
Approved within 24 hours!
100% Satisfaction
If not completely satisfied, you'll receive 3 months absolutely free;
No questions asked!
Buy Now!
Alexa Web Ranking: 4,587,473

Alexa Ranking - A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe to A Website For Aashiqan e Rasool
Subscribe Now!
رشتہ داروں کے حقوق

دین اسلام نے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم فرمایا ،اور بلاوجہ ان کے ساتھ قطع تعلق کرنا حرام فرمایا ۔ لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان چند باتوں پر عمل تو لازمی کرے :۔  (۱)اگر اپنے عزیزواقربامفلس ومحتاج ہوں اور کھانے کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اپنی طاقت بھر […] The post رشتہ...

دین اسلام نے رشتہ داروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم فرمایا ،اور بلاوجہ ان کے ساتھ قطع تعلق کرنا حرام فرمایا ۔

لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان چند باتوں پر عمل تو لازمی کرے :۔

 (۱)اگر اپنے عزیزواقربامفلس ومحتاج ہوں اور کھانے کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اپنی طاقت بھر اوراپنی گنجائش کے مطابق ان کی مالی مدد کرتے رہیں۔

 (۲)کبھی کبھی اپنے رشتہ داروں کے یہاں آتے جاتے رہیں، ان کی خوشی اور غمی میں ہمیشہ شریک رہیں۔

 (۳)خبردار خبردار ہرگزہرگز رشتہ داروں سے قطع تعلق کرکے رشتہ نہ کاٹیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے کہ:۔”اپنے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا جنت میں نہیں داخل ہو گا۔ ”

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ، رقم ۲۵۵۶،ص۱۳۸۳)

 (۴) اگر رشتہ داروں کی طرف سے کوئی تکلیف بھی پہنچ جائے تو اس پر صبر کرنا اور پھر بھی ان سے میل جول اور تعلق کو برقرار رکھنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ :ـ ’’ جوتم سے تعلق توڑے تم اس سے میل ملاپ رکھو اور جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کردو۔ اور جو تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تم اس کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہو۔‘‘

(المسند للامام احمد ،حدیث عقبہ بن عامر،الحدیث۱۷۴۵۷، کنزالعمال،کتاب الاخلاق،ج۳،ص۱۴۵)

اور ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ :ـ ’’رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے سے آدمی اپنے اہل و عیال کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور اس کی مالداری بڑھ جاتی ہے۔ اور اس کی عمر میں درازی اور برکت ہوتی ہے۔‘‘

(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، رقم ۱۹۸۶،ج۳،ص۳۹۴)

معلوم چلا کہ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک بہت زیادہ ا جر و ثواب ملنے کا ذریعہ ہے ۔

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post رشتہ داروں کے حقوق appeared first on Midhaterasool.



حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبداللہ بن ہشام بن عثمان قریشی ، یہ قبیلہ قریش میں خاندان بنی تیم سے تعلق رکھتے ہیں ۴ھ میں پیدا ہوئے , اہل حجاز کے محدثین میں ان کا شمار ہوتاہے اور ان کے شاگردوں میں ان کے پوتے زہرہ بن معبد بہت مشہور محدث ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ […] The post حضرت عبداللہ بن ہشام رضی...

حضرت عبداللہ بن ہشام بن عثمان قریشی ، یہ قبیلہ قریش میں خاندان بنی تیم سے تعلق رکھتے ہیں ۴ھ میں پیدا ہوئے , اہل حجاز کے محدثین میں ان کا شمار ہوتاہے اور ان کے شاگردوں میں ان کے پوتے زہرہ بن معبد بہت مشہور محدث ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچپن ہی میں ان کی والدہ حضرت زینب بنت حمید حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں اورعرض کیا: یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ میرے اس بچے سے بیعت لے لیجئے ۔

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہی چھوٹا ہے ۔ پھراپنا مقدس ہاتھ ان کے سر پر پھیرا اوران کے لیے خیر وبرکت کی دعا فرمادی ۔

اسي دعائے نبوی ﷺ کی بدولت ان کو یہ کرامت حاصل ہوئی کہ ان کو تجارت میں نفع کے سواکسی سودے میں کبھی بھی نقصان ہوا ہی نہیں ۔

روایت ہے کہ یہ اپنے پوتے زہرہ بن معبد کو ساتھ لے کر بازار میں جاتے اورغلہ خریدتے تو حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان سے ملاقات کرتے اورکہتے کہ ہم کو بھی آپ اپنی اس تجارت میں شریک کرلیجئے اس لئے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے لیے خیروبرکت کی دعا فرمائی ہے ۔

پھر یہ سب لوگ اس تجارت میں شریک ہوجاتے تو بسا اوقات اونٹ کے بوجھ برابر نفع کمالیتے اور اس کو اپنے گھر بھیج دیتے ۔

معلوم چلا کہ نیک او رصالح لوگوں کو اپنے کاروبار اور روزگار میں اس نیت سے شریک کرلینا کہ ان کی برکت سے ہم فیض یاب ہوں گے ۔یہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کامقدس طریقہ ہے ۔

چنانچہ پرانے زمانے کے خوش عقیدہ اورنیک تاجروں کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جب کوئی تجارت کرتے تھے تو کسی عالم دین یا پیر طریقت کا کچھ حصہ اس تجارت میں مقرر کر کے ان بزرگوں کو اپنا شریک تجارت بنالیتے تھے تاکہ ان اللہ والوں کی و جہ سے تجارت میں خیر وبرکت ہو۔

اسی لئے آج کل بھی بعض خوش عقیدہ اورنیک بخت مؤمن خصوصاًمیمن اپنی تجارت میں حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حصہ دار بنالیتے ہیں اور نفع میں جتنی رقم حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کی نکلتی ہے ۔

اس کو یہ لوگ نیاز کھاتہ کہتے ہیں اور اسی رقم سے یہ لوگ گیارہویں شریف کی فاتحہ بھی دلاتے ہیں اورعالموں اورسیدوں کو اسی رقم سے نذرانہ بھی دیا کرتے ہیں ۔ یقینایہ بہت ہی اچھا طریقہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔

( کرامات صحابہ، ص؛174 تا 176 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی )

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ appeared first on Midhaterasool.



پیارے آقا ﷺ کے مبارک عمامے

پیارے آقا ﷺ نے مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث و سیر میں موجود ہے ۔آئیے اس حوالے سے مفید معلومات آپ بھی پڑھئے اور دوسروں تک پہنچائیے۔ الفت ہے مجھے گیسوئے خَمدارِ نبی سے اَبرو و پَلک آنکھ سے رُخسارِنبی […] The post...

پیارے آقا ﷺ نے مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث و سیر میں موجود ہے ۔آئیے اس حوالے سے مفید معلومات آپ بھی پڑھئے اور دوسروں تک پہنچائیے۔

الفت ہے مجھے گیسوئے خَمدارِ نبی سے اَبرو و پَلک آنکھ سے رُخسارِنبی سے
پَیراہَن و چادر سے عصا سے ہے مَحَبَّت نَعلَیْنِ شَرِیفَین سے دَستارِنبی سے

سیاہ عمامہ مبارک

 -: ایک موقع پر تو سیدنا جبریلِ امین علیہ السلام نے پیارے آقا ﷺ کو سیاہ رنگ کا عمامہ شریف باندھا بھی ہے۔

 -: سب سے آخر ی خطبہ دیتے وقت سرِ اقدس پر چکنی پٹی یا سیاہ رنگ کا عمامہ شریف سجا ہوا تھا۔

 -: فتحِ مکہ کے دن خاکستری مائل بسیاہی رنگ کا عمامہ پہنا ۔

 -: فتحِ مکہ کے دن نبیٔ کریم ﷺ اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے تھے۔

(الشریعۃ للآجری، کتاب فضائل العباس بن عبدالمطلب الخ ، باب ذکر تعظیم قدر العباس الخ ، ۵/۲۲۵۱، رقم:۱۷۳۲)

 -: غزوۂ خندق کے روز نبیٔ کریم ﷺ کا عمامہ مبارک سیاہ رنگ کا تھا۔

(شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۳، حدیث:۶۲۴۷)

 -: پیارے آقا ﷺ کا ایک سیاہ عمامہ شریف تھا جسے آپ عیدین پر پہنا کرتے اور شملہ پیچھے لٹکایا کرتے تھے۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال ، من اسمہ محمد ، محمد بن عبیداللہ الخ، ۷/۲۴۹)

 -: حدیبیہ کے دن رسول اللہ ﷺ سیاہ عمامہ شریف پہنے ہوئے تھے جس پر کچھ غبار (برکتیں لوٹ رہا) تھا۔

(اخبار اصبہان، باب الزا، ۱/۴۳۱)

 -: ایک مرتبہ قحط سالی کے وقت مدینہ منورہ سے بقیعِ غَرقَد (جَنَّتُ البَقِیع) کی طرف تشریف لے گئے، اس وقت آپ ﷺ سیاہ عمامہ پہنے ہوئے تھے جس کا ایک شملہ اپنے سامنے اور دوسرا اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا ئے ہوئے تھے۔

(کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ ، الباب السابع فی صلاۃ النفل، صلاۃ الاستسقاء ، الجز۸، ۴/۲۰۳، حدیث:۲۳۵۴۱)

حَرقانی عمامہ مبارک

نبی ٔ پاک ﷺ کے مختلف رنگ کے عماموں میں ایک حرقانی رنگ کا عمامہ شریف بھی تھا۔ یہ خالص سیاہ رنگ کا نہیں تھا بلکہ جیسے کسی چیز کو آگ سے جلا دیا جائے تو اس کا رنگ قدرے سیاہی مائل ہو جاتا ہے ۔ آپ ﷺ کا یہ عمامہ مبارک بھی ایسا ہی سیاہ تھا جیسے آگ سے جلی ہوئی شے کا رنگ ہوتا ہے۔
(نسائی، کتاب الزینۃ، لبس العمائم الحرقانیۃ، ۱/۸۴۶، حدیث: ۵۳۵۳)

زرد عمامہ مبارک

آپ ﷺ کا زرد عمامہ شریف باندھنا بھی کئی احادیث سے ثابت ہے، مرضِ وصال آپ ﷺ کے سرمبارک پر عمامہ زرد تھا۔
(الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی إتکاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۹۳، حدیث:۱۲۹)

بدر کے میدان میں فرشتوں کے عمامے زرد رنگ کے تھے پھر نبی کریم ﷺ بھی زرد عمامہ شریف زیبِ سر کیے تشریف لائے ۔
(تاریخ ابن عساکر، ذکرمن اسمہ زبیر ، ۱۸/۳۵۴)

حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما اپنی داڑھی مبارک کو زرد رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے کپڑوں میں بھی زرد رنگ لگ جایا کرتا تھا۔ آپ سے پوچھا گیا آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے پیارے آقا ﷺ کو زرد رنگ سے رنگتے دیکھا ہے اور آپ کو اس سے زیادہ اور کوئی رنگ محبوب نہ تھا آپ پورے لباس کو اس میں رنگتے حتی کہ عمامہ شریف کو بھی اسی رنگ میں رنگا کرتے تھے۔
(ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی المصبوغ بالصفرۃ ، ۴/۷۳، حدیث:۴۰۶۴)

زعفرانی عمامہ مبارک

حضرت سیّدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے نبی ٔ کریم ﷺ کو زعفران سے رنگے ہوئے دو کپڑے’’ چادر اور عمامہ ‘‘پہنے ہوئے دیکھا۔
(مستدرک حاکم، ذکر عبداللہ بن جعفر الخ، سخاوۃ عبداللہ بن جعفر، ۴/۷۳۹، حدیث:۶۴۷۴)

حضرت سیّدنا یحییٰ بن عبداللہ بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق فرماتے ہیں : نبیٔ کریم ﷺ اپنے کپڑوں کے ساتھ عمامے کو بھی زعفران سے رنگا کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی الثیاب الصفر للرجال، ۱۲/۴۷۶، حدیث:۲۵۲۴۳)

حضرت سیّدنا عبداللہ بن جَعفَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نے رسولِ کریم ﷺ کی زیارت کی تو میں نے دیکھا کہ آپ کی چادر اور عمامہ شریف دونوں زعفران سے رنگے ہوئے تھے۔
(مسند ابی یعلٰی، مسند عبد اللہ بن جعفر الہاشمی، ۶/۳۴، حدیث:۶۷۵۶)

سفید عمامہ مبارک

حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ ﷺ (کی طبیعت مبارک) کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ ﷺ کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔
(طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳ )

دھاری دارسرخ عمامہ مبارک

حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا ، آپ ﷺ نے قِطری ( سرخ دھاری دار کھردرہ ) عمامہ شریف باندھ رکھا تھا ۔
(ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)

سبز عمامہ مبارک

سبز عمامہ شریف بھی رسول اکرم ﷺ سے پہننا ثابت ہے چنانچہ
علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، سرکارِ ﷺ کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔
(کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)

حضرت عبد اللہ ابن عباس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔
(تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲)

حضرت علّامہ عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّءُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی ﷺ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔
(الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)

صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

 

The post پیارے آقا ﷺ کے مبارک عمامے appeared first on Midhaterasool.



قبر کی تنہائی اور رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ

منقول ہے: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم بندے پر اس وقت بہت زیادہ ہوتاہے جب اس کو قبر میں اُتارا جاتا ہے اورسخت مِٹی اس کے نرم و نازک رُخسار پر رکھ دی جاتی ہے اور اس کے قرب میں رہنے والے، محبت کرنے والے جب بے وفائی کر جاتے ہیں ۔ جب میت […] The post قبر کی تنہائی اور رحمتِ خداوندی...

منقول ہے: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم بندے پر اس وقت بہت زیادہ ہوتاہے جب اس کو قبر میں اُتارا جاتا ہے اورسخت مِٹی اس کے نرم و نازک رُخسار پر رکھ دی جاتی ہے اور اس کے قرب میں رہنے والے، محبت کرنے والے جب بے وفائی کر جاتے ہیں ۔ جب میت کواوّلاً تختۂ غسل پر رکھ کر اس کا لباس اُتار دیا جاتا ہے تو وہ اپنے احباب سے مایوس ہو کر پکارتاہے : ”ہائے بربادی و رسوائی !”اس کی ندا سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کوئی نہیں سنتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ”میرے بندے !میں نے دنیامیں تیری پردہ پوشی کی آخرت میں بھی پردہ پوشی کروں گا۔”
جب میت کو چارپائی پر رکھ کر گھر سے سوئے قبرستان چل پڑتے ہیں تو وہ چلاتا ہے: ہائے تنہائی !”اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے: ”اے میرے بندے !اگر تو آج تنہا ہے تو میں ہمیشہ تیرے قریب ہوں۔ خوف نہ رکھ میں تیرے گناہ مٹا دوں گا، قبر میں تیری تنہائی پر رحم کروں گا،میں تیری تنہائی میں تیرا
مونِس ہوں ۔”

جب لوگ اس کو لحد میں اتار کر اس کے نرم و نازک رخسار کو سخت مٹی پر رکھ کر پلٹ جاتے ہیں تو وہ چیختاہے:”ہائے تنہائی!” اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:”اے میرے بندے!کیا تجھے وحشت ہوتی ہے جبکہ میں تیرا انيس ہوں، کیا تو اکیلے پن کی شکایت کرتا ہے جبکہ میں تیرے قریب ہوں ۔ اے میرے بندے !کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟” عرض کریگا :”کیوں نہیں۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !۔”اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:”اے میرے بندے !کیسے تو نے اس چیز کو چھوڑ دیا جس کا میں نے تجھے حکم دیا تھا؟اور کیسے اس کا مرتکب ہوا جس سے میں نے تجھے منع کیا تھا ؟کیا تجھے معلوم نہ تھاکہ تجھے میری طرف پلٹنا ہے؟ تیرے اعمال میرے سامنے پیش ہوں گے؟کیا تو نے میرے عہد کو بھلا دیا تھا ؟یا تو میرے وعدے اور وعید کا منکر تھا؟اب تیرے دوستوں نے تجھے تنہا چھوڑ دیا ،مال تیرے ہاتھ سے چھوٹ گیا ،مال نے تیرے مقصد میں تجھے کوئی نفع نہ دیا ،نہ دوستوں نے تجھے تیرے برے اعمال سے بچایا ۔اب تیرے پاس کیاعذر ہے؟

بندہ عرض کریگا:”اے میرے پروردگا رعَزَّوَجَلَّ !میرا دل مال ودولت کی محبت میں گرفتار ہوا، ان دونوں نے مجھے گناہوں پر آمادہ کیا، اب میں تیرے جوار رحمت میں ہوں اور تیرااس رات مہمان ہوں تو مجھے اپنی آگ سے عذاب نہ دینا ،اگر تو ہی مجھ پر رحم نہیں فرمائے گا تو پھر کون رحم کریگا؟”اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ”اے میرے بندے! لوگوں نے تجھے چھوڑ دیا اور اگر وہ تیرے پاس رہتے تو بھی تجھے ان سے نفع نہ ہوتا، انہوں نے تجھے میرے دروازے کی طرف متوجہ کر دیا اور میرے رحم و کرم پر چھوڑ کر گئے ہیں ۔اے میرے بندے!ٹھنڈا سانس لے اور آنکھوں کو بھی ٹھنڈا کر لے کہ تو آج رات میرا مہمان ہے اور کریم اپنے مہمان کو محروم نہیں چھوڑتا ۔ اے فرشتو! احسن طریقے سے اس کی مہمان نوازی کرو اور اس پر اس کے گھر والوں اورقرابت داروں سے زیادہ مہربان ہوجاؤ۔ ‘‘

حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور سید الْمبلِغین ﷺ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:”اگر تمہاری خطائیں آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تو ضرور اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری توبہ قبول فرما لے گا۔

(سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،الحدیث۴۲۴۸،ص۳۵ ۲۷)

(حکایتیں اور نصیحتیں ص 640۔641)

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post قبر کی تنہائی اور رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ appeared first on Midhaterasool.



سات خوش نصیب

مکی مدنی سرکار آقا ئے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔ ”سات قسم کے آدمیوں کو اس دن اﷲ (عزوجل) سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔  (۱) انصاف کرنے والا حکمران  (۲)وہ نوجوان جو اﷲ(عزوجل)کی فرمانبرداری میں پروان چڑھا  (۳)وہ شخص جو مسجد سے نکلے تو […] The post...

مکی مدنی سرکار آقا ئے دو جہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔

”سات قسم کے آدمیوں کو اس دن اﷲ (عزوجل) سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔

 (۱) انصاف کرنے والا حکمران

 (۲)وہ نوجوان جو اﷲ(عزوجل)کی فرمانبرداری میں پروان چڑھا

 (۳)وہ شخص جو مسجد سے نکلے تو واپسی تک اس کا دل مسجد ہی میں لگا رہے

 (۴)وہ دو آدمی جو اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتے ہیں اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں

 (۵)وہ شخص جو علیحدگی میں اﷲ (عزوجل) کو یاد کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں

 (۶)وہ مرد جسے کوئی خوبصورت اور خاندانی عورت (گناہ کی طرف) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے میں اﷲ (عزوجل) سے ڈرتا ہوں

 (۷)اور وہ آدمی جو صدقہ دیتا ہے تو اسے اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے”۔

(صحیح بخاری جلد اول ص ۱۹۱ کتاب الزکوٰۃ)

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post سات خوش نصیب appeared first on Midhaterasool.



پڑوسی کے چند حقوق

قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔ پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (کے ساتھ بھلائی کرو)۔” (پ5،النساء:36) اور حدیث شریف میں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ : حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ کو ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا […] The post...

قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔

پاس کے ہمسائے اور دور کے ہمسائے (کے ساتھ بھلائی کرو)۔”

(پ5،النساء:36)

اور حدیث شریف میں رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ : حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ کو ہمیشہ پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ شاید عنقریب پڑوسی کو اپنے پڑوسی کا وارث ٹھہرا دیں گے۔

(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب الوصیۃ بالجاروالاحسان الیہ ، رقم۲۶۶۴،ص۱۴۱۳)

ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ ایک دن حضور ﷺ وضو فرما رہے تھے تو صحابہ کرام علیھم الرضوان آپ کے وضو کے دھووَن کو لوٹ لوٹ کر اپنے چہروں پر ملنے لگے یہ منظر دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو۔۔۔ ؟

صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا کہ ہم لوگ اﷲعزوجل کے رسول ﷺ کی محبت کے جذبے میں یہ کررہے ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کویہ بات پسند ہو کہ وہ اﷲ و رسول عزوجل و ﷺ سے محبت کرے۔ یا اﷲ و رسول عزوجل و ﷺ اس سے محبت کریں اس کو لازم ہے کہ وہ ہمیشہ ہر بات میں سچ بولے اور اس کو جب کسی چیز کا امین بنایاجائے تو وہ امانت ادا کرے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

(شعب الایمان ، باب فی تعظیم النبی صلی اللہ علیہ وسلم … الخ ، رقم ۱۵۳۳،ج۲،ص۲۰۱)

اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ وہ شخص کامل درجے کا مسلمان نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھالے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے۔

(شعب الایمان،باب فی الزکوٰۃ، فصل فی کراہیۃ امساک الفضل… الخ ، رقم ۳۳۸۹، ج۳، ص۲۲۵)

چند مدنی پھول عرض کئے جاتے ہیں ان پر عمل کرنے کی نیت کرلیں۔

 (۱)اپنے پڑوسی کے دکھ سکھ میں شریک رہے اور بوقت ضرورت ان کی بن مانگے بغیر احسان جتائے ہر قسم کی امدادبھی کرتا رہے۔

 (۲)اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری ، ان کی خیر خواہی اور بھلائی میں ہمیشہ لگا رہے۔

 (۳)کچھ تحفوں کا بھی لین دین رکھے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ’’ جب تم لوگ شوربا پکاؤ تو اس میں کچھ زیادہ پانی ڈال کر شوربے کو بڑھاؤ تاکہ تم لوگ اس کے ذریعہ اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری اور ان کی مدد کر سکو۔‘‘

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب ،باب الوصیۃ بالجاروالاحسان الیہ، رقم ۲۶۲۵،ص۱۴۱۳)

 (۴)پڑوسی کے مال عزت آبرو کے معاملے میں بہت احتیاط برتے ان کی پردہ پوشی کرے ۔اپنی نگاہوں کو پڑوسی کی عورتوں سے دیکھنے سے خاص طور پر بچائے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کا حق ادا کرنے والا بنائے ۔۔۔ آمین ۔

( منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

The post پڑوسی کے چند حقوق appeared first on Midhaterasool.



Subscribe to RSS Feed
Link to Category: Islam Blogs


Or if you prefer use one of our linkware images? Click here